بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
 Dajjal Series — Qist-e-Sewom: Hadees-e-Tamim Dari aur Jassasah ka Mukammal Bayan
Dajjal Series — Qist-e-Sewom: Hadees-e-Tamim Dari aur Jassasah ka Mukammal Bayan

 

dajjal series qist sewom hadees e tamim dari aur jassasah ka mukammal bayan

دجال سیریز — قسط سوم: حدیث تمیم داری اور جساسہ کا مکمل بیان | AHSANULWAZAIF TV
🕌 AHSANULWAZAIF TV — اسلامی وظائف، قرآنی دعائیں اور روحانی علاج
دجال سیریز • قسط سوم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حدیث تمیم داری اور جساسہ کا مکمل بیان صحیح مسلم کی مشہور حدیث کی مکمل تشریح — قسط سوم

🕌 AHSANULWAZAIF TV 📅 جولائی 2026 ⏱ 18 منٹ مطالعہ
حدیث تمیم داری جساسہ دجال کا واقعہ بیسان اور زغر
📖 گزشتہ اقساط کا تسلسل

پہلی قسط میں دجال کے جسمانی حلیے پر، اور دوسری قسط میں اس کے ظہور کی جگہ، وقت اور فتنے کی نوعیت پر بات ہوئی۔ آج کی قسط میں ہم اس سیریز کی سب سے تفصیلی اور دلچسپ حدیث — "حدیث تمیم داری" یا "حدیث جساسہ" — کو مکمل طور پر بیان کریں گے، جو خود نبی کریم ﷺ نے منبر پر پوری امت کو سنائی اور اس کی تصدیق فرمائی۔

حدیث کا مقام اور اس کی سند کا درجہ

حدیث تمیم داری، جسے "حدیث جساسہ" بھی کہا جاتا ہے، صحیح مسلم کی کتاب الفتن میں ایک طویل اور تفصیلی روایت کے طور پر موجود ہے۔ یہ حدیث اپنی طوالت، تفصیل اور حیرت انگیز واقعاتی انداز کی وجہ سے دجال کے موضوع پر سب سے زیادہ زیرِ بحث رہنے والی روایات میں سے ایک ہے۔

سند کا درجہ

یہ حدیث صحیح مسلم میں حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے واسطے سے مروی ہے، اور امام مسلم رحمہ اللہ نے اسے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے، جو حدیث کی صحت کی سب سے مضبوط دلیل ہے۔ اگرچہ بعض متاخر محققین نے اس کے متن کی بعض جزئیات پر علمی گفتگو کی ہے، لیکن اصل روایت بحیثیت مجموعی صحیح مسلم کی ایک مستند حدیث شمار ہوتی ہے، اور خود نبی کریم ﷺ کا اسے منبر پر بیان فرما کر تصدیق کرنا اس کی اہمیت کو اور بڑھا دیتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ حدیث محض ایک قصہ یا کہانی نہیں بلکہ ایک صحابیہ کی زبانی نقل کردہ واقعاتی روایت ہے جسے نبی کریم ﷺ نے خود تصدیق فرمائی — لہٰذا اسے عام واقعاتی روایات سے الگ اور زیادہ وزن دار سمجھنا چاہیے۔

حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ — ایک مختصر تعارف

حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ اصل میں ایک عیسائی تھے جو بعد میں اسلام لائے۔ وہ عرب کے علاقے سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے علم، عبادت اور راہبانہ زندگی گزارنے کی عادت کی وجہ سے مشہور تھے۔ ان کے اسلام لانے کے بعد نبی کریم ﷺ نے ان کی دیانتداری اور سچائی پر بھروسہ کیا، اور جب انہوں نے یہ عجیب واقعہ سنایا تو نبی کریم ﷺ نے اسے سچ تسلیم کیا اور خود اپنی زبان مبارک سے امت کو سنایا۔

یہ نکتہ خاص طور پر قابلِ غور ہے کہ اسلام سے پہلے کے تجربات اور علم کو بھی، اگر وہ حق اور سچائی پر مبنی ہوں، نبی کریم ﷺ نے رد نہیں فرمایا بلکہ ان کی تصدیق فرمائی — یہ اسلام کی وسعتِ نظر کی ایک مثال ہے۔

سمندری سفر اور طوفان — واقعے کا آغاز

حدیث کے مطابق حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نے خود یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کی مجلس میں بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ قبیلہ "لخم" اور "جذام" کے کچھ لوگوں کے ساتھ ایک کشتی میں سوار ہو کر سمندری سفر پر روانہ ہوئے۔ سفر کے دوران ایک شدید طوفان آیا جس نے ان کی کشتی کو راستے سے بھٹکا دیا اور وہ سمندر میں ایک مہینے تک بھٹکتے رہے۔

حدیث کا آغاز — تمیم داری کی زبانی

صحیح
رَكِبْتُ فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ مَعَ ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامَ، فَلَعِبَ بِنَا الْمَوْجُ شَهْرًا فِي الْبَحْرِ
میں تیس آدمیوں کے ساتھ، جو لخم اور جذام قبیلوں سے تھے، ایک سمندری کشتی میں سوار ہوا، تو موجوں نے ہمیں ایک مہینے تک سمندر میں کھلونا بنائے رکھا۔
صحیح مسلم — حدیث 2942

بالآخر ان کی کشتی طوفان کے دھکے کھاتے ہوئے ایک نامعلوم اور ویران جزیرے کے قریب جا لگی۔ سمندر کی ہولناک بےیقینی کی حالت کے بعد جب انہیں خشکی نظر آئی تو وہ کشتی سے اتر کر جزیرے میں داخل ہوئے تاکہ کچھ معلومات اور مدد حاصل کر سکیں۔

جزیرے پر اترنا اور عجیب مخلوق سے ملاقات

جزیرے میں داخل ہوتے ہی ان کا سامنا ایک انتہائی عجیب و غریب مخلوق سے ہوا — ایک ایسی مخلوق جو بہت زیادہ بالوں والی تھی، جس کی وجہ سے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ اس کا اگلا حصہ کون سا ہے اور پچھلا کون سا۔

حدیث — عجیب مخلوق کا حلیہ

صحیح
فَإِذَا دَابَّةٌ أَهْلَبُ، كَثِيرَةُ الشَّعَرِ، لَا نَدْرِي مَا قُبُلُهَا مِنْ دُبُرِهَا مِنْ كَثْرَةِ الشَّعَرِ، فَقُلْنَا: وَيْلَكِ مَا أَنْتِ؟ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ
تو وہاں ایک بہت بالوں والی مخلوق تھی، اتنے زیادہ بال تھے کہ ہمیں معلوم نہ ہو سکا کہ اس کا اگلا حصہ کون سا ہے اور پچھلا کون سا، ہم نے کہا: تیری خرابی ہو، تو کیا ہے؟ اس نے کہا: میں جساسہ ہوں۔
صحیح مسلم — حدیث 2942

لفظ "جساسہ" عربی زبان کے مادے "جس" سے نکلا ہے جس کے معنی ٹٹولنے، معلومات اکٹھی کرنے یا جاسوسی کرنے کے ہیں۔ اسی مناسبت سے اس مخلوق کا نام "جساسہ" رکھا گیا، کیونکہ اس کا کام ہی معلومات اکٹھی کر کے دجال تک پہنچانا تھا — گویا یہ دجال کی جاسوس اور خبر رساں تھی۔

جساسہ کا حلیہ اور اس کی بات چیت

جساسہ نے تمیم داری اور ان کے ساتھیوں سے کہا کہ وہ ایک خاص عمارت میں جائیں جہاں ایک شخص ان سے ملنا چاہتا ہے۔ اس مخلوق کی بات چیت اور اس کا انداز اس بات کی نشاندہی کرتا تھا کہ وہ کوئی عام جانور نہیں بلکہ ایک خاص مقصد کے لیے پیدا کی گئی مخلوق تھی۔

حدیث — جساسہ کی ہدایت

صحیح
قَالَتِ: انْطَلِقُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي الدَّيْرِ فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ
اس نے کہا: تم لوگ اس دیر (عبادت خانے) میں موجود شخص کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ وہ تمہاری خبر کا بہت مشتاق ہے۔
صحیح مسلم — حدیث 2942

یہاں لفظ "دیر" استعمال ہوا ہے جو عربی میں عام طور پر عیسائی راہبوں کی عبادت گاہ یا خانقاہ کے لیے استعمال ہوتا ہے — یعنی جزیرے میں ایک تنہا اور بند عمارت تھی جس میں وہ پراسرار شخص مقید تھا۔

دیر میں بندھے ہوئے دجال سے ملاقات

جب تمیم داری اور ان کے ساتھی اس عمارت میں داخل ہوئے تو انہوں نے ایک انتہائی خوفناک منظر دیکھا — ایک نہایت بڑے قد کا شخص، جو زنجیروں میں سختی سے جکڑا ہوا تھا۔

حدیث — بندھے ہوئے شخص کا حلیہ

صحیح
فَإِذَا نَحْنُ بِإِنْسَانٍ أَعْظَمِ إِنْسَانٍ رَأَيْنَاهُ قَطُّ خَلْقًا وَأَشَدِّهِ وِثَاقًا، مَجْمُوعَةٌ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ، مَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى كَعْبَيْهِ بِالْحَدِيدِ
تو ہم نے ایک ایسا انسان دیکھا جو خلقت میں سب سے بڑا تھا جو ہم نے کبھی دیکھا، اور سب سے سخت باندھا ہوا تھا — اس کے دونوں ہاتھ گردن سے بندھے تھے، اور گھٹنوں سے ٹخنوں تک لوہے کی زنجیریں تھیں۔
صحیح مسلم — حدیث 2942

یہ تفصیل پہلی قسط میں بیان کردہ دجال کی جسامت سے مکمل مطابقت رکھتی ہے، جہاں ہم نے اس کی غیر معمولی جسامت کا ذکر کیا تھا۔ خوف کے باوجود تمیم داری اور ان کے ساتھیوں نے ہمت کر کے اس سے بات چیت شروع کی۔

حدیث — تمیم داری کا سوال اور اس شخص کا جواب

صحیح
قُلْنَا: وَيْلَكَ مَا أَنْتَ؟ فَقَالَ: قَدْ قَدَرْتُمْ عَلَى خَبَرِي، فَأَخْبِرُونِي مَا أَنْتُمْ؟
ہم نے کہا: تیری خرابی ہو، تو کیا ہے؟ اس نے کہا: تم میری خبر جاننے پر قادر ہو چکے ہو، پہلے تم بتاؤ کہ تم کون ہو؟
صحیح مسلم — حدیث 2942

دجال کے سوالات — بیسان، زغر اور بحیرہ طبریہ

اپنا تعارف جاننے کے بعد اس پراسرار شخص نے ان سے متعدد سوالات پوچھے، جن میں سے ہر ایک شام کے مخصوص علاقوں سے متعلق تھا — یہ ظاہر کرتا ہے کہ دجال کی خاص دلچسپی سرزمینِ شام سے ہے، جو مستقبل میں اس کے سرگرمی کا مرکز بھی بنے گی۔

پہلا سوال — کھجور کے باغات (بیسان)

اس نے پوچھا کہ آیا شام کے علاقے "بیسان" کے کھجور کے باغ اب بھی پھل دیتے ہیں؟ صحابہ نے بتایا کہ ہاں، وہ باغ اب بھی پھل دار ہیں۔ اس نے کہا کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب وہ باغ پھل دینا چھوڑ دیں گے۔

دوسرا سوال — بحیرہ طبریہ

اس نے بحیرہ طبریہ (جھیل طبریہ) کے بارے میں پوچھا کہ کیا اس میں پانی موجود ہے؟ جواب ملا کہ ہاں پانی بہت زیادہ ہے۔ اس نے کہا کہ عنقریب اس کا پانی ختم ہونے والا ہے۔

تیسرا سوال — چشمہ زغر

اس نے چشمہ زغر کے بارے میں دریافت کیا کہ آیا اس میں پانی ہے اور کیا اہلِ زغر اپنی کھیتی اسی پانی سے سیراب کرتے ہیں؟ صحابہ نے اثبات میں جواب دیا۔

حدیث — بیسان کے کھجوروں سے متعلق اصل الفاظ

صحیح
أَخْبِرُونِي عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ، قُلْنَا: عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: أَسْأَلُكُمْ عَنْ نَخْلِهَا، هَلْ يُثْمِرُ؟ قُلْنَا لَهُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ لَا تُثْمِرَ
اس نے کہا: مجھے بیسان کے کھجوروں کے بارے میں بتاؤ، ہم نے کہا: کس بات کے بارے میں پوچھتے ہو؟ اس نے کہا: میں تم سے پوچھتا ہوں کہ کیا وہ پھل دیتے ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: خبردار! عنقریب وہ پھل دینا چھوڑ دیں گے۔
صحیح مسلم — حدیث 2942

یہ تینوں سوالات ایک اہم بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں: دجال کو غیب کا مکمل علم نہیں، بلکہ اسے صرف اتنی معلومات دی گئی ہیں جتنی اللہ تعالیٰ نے آزمائش کے طور پر عطا کی ہیں — وہ خود سوال کر کے معلومات حاصل کرتا ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا نہیں بلکہ ایک محدود مخلوق ہے جسے علمِ غیب حاصل نہیں۔

دجال کا سب سے اہم سوال — نبی امی کے بارے میں

اس پوری گفتگو میں سب سے اہم اور دل چسپ لمحہ وہ تھا جب اس پراسرار شخص نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں دریافت کیا۔

حدیث — نبی امی کا ذکر

صحیح
أَخْبِرُونِي عَنْ نَبِيِّ الْأُمِّيِّينَ مَا فَعَلَ؟ قُلْنَا لَهُ: قَدْ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ وَنَزَلَ يَثْرِبَ. قَالَ: أَقَاتَلَهُ الْعَرَبُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: كَيْفَ صَنَعَ بِهِمْ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّهُ قَدْ ظَهَرَ عَلَى مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ وَأَطَاعُوهُ
اس نے کہا: مجھے نبی امی کے بارے میں بتاؤ، اس نے کیا کیا؟ ہم نے کہا: وہ مکہ سے نکل کر یثرب (مدینہ) میں جا بسے ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا عربوں نے ان سے جنگ کی؟ ہم نے کہا: ہاں۔ اس نے پوچھا: انہوں نے ان کے ساتھ کیا کیا؟ ہم نے بتایا کہ وہ اپنے قریبی عربوں پر غالب آ گئے ہیں اور انہوں نے ان کی اطاعت اختیار کر لی ہے۔
صحیح مسلم — حدیث 2942

حدیث — دجال کا اپنے بارے میں اعتراف

صحیح
أَمَا إِنَّ ذَاكَ خَيْرٌ لَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ، وَإِنِّي مُخْبِرُكُمْ عَنِّي، إِنِّي أَنَا الْمَسِيحُ، وَإِنِّي أُوشِكُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ، فَأَخْرُجَ فَأَسِيرَ فِي الْأَرْضِ
اس نے کہا: بلاشبہ یہ ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ اس کی اطاعت کریں، اور اب میں تمہیں اپنے بارے میں بتاتا ہوں: میں ہی مسیح (دجال) ہوں، اور عنقریب مجھے نکلنے کی اجازت دی جانے والی ہے، پھر میں نکل کر زمین میں سیر کروں گا۔
صحیح مسلم — حدیث 2942

یہاں ایک نہایت اہم نکتہ سامنے آتا ہے: نبی کریم ﷺ کو "نبی امی" کہا گیا ہے، یعنی وہ نبی جو پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے۔ یہ اصطلاح خود قرآن مجید میں بھی استعمال ہوئی ہے، اور امی ہونے کے باوجود قرآن جیسی عظیم اور فصیح کتاب کا حامل ہونا آپ ﷺ کی نبوت کی سب سے بڑی دلیلوں میں سے ایک ہے۔

نبی کریم ﷺ کا منبر پر یہ حدیث سنانا اور اس کی تصدیق

جب حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نے یہ عجیب واقعہ نبی کریم ﷺ کو سنایا تو آپ ﷺ نے اسے محض ایک دلچسپ کہانی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا، بلکہ آپ ﷺ نے فوراً مسجد نبوی میں لوگوں کو جمع کیا اور منبر پر چڑھ کر یہ حدیث پوری امت کو سنائی۔

حدیث — نبی کریم ﷺ کی تصدیق

صحیح
فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: إِنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّامِ أَوْ بَحْرِ الْيَمَنِ، لَا، بَلْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ، مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ، مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَشْرِقِ
پھر رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر دجال کا ذکر کر کے فرمایا: وہ شام کے سمندر میں ہے یا یمن کے سمندر میں، نہیں بلکہ مشرق کی طرف سے ہے، مشرق کی طرف سے ہے، مشرق کی طرف سے ہے — اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا۔
صحیح مسلم — حدیث 2942

یہ حدیث کا وہ حصہ ہے جس پر بعض علماء نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تین بار زور دے کر "مشرق کی طرف" اشارہ فرمایا، جو دوسری قسط میں مذکور "خراسان" والی روایت سے ایک طرح کی مطابقت رکھتا ہے، اگرچہ وہاں سند کا معیار مختلف تھا۔

اس حدیث سے حاصل ہونے والے اہم نکات

🔗

پچھلی قسطوں سے تصدیق

دجال کی جسامت اور شامی خطے سے تعلق پہلی و دوسری قسط کی معلومات سے مطابقت رکھتا ہے۔

🔒

دجال فی الحال قید ہے

یہ حدیث بتاتی ہے کہ دجال فی الوقت زنجیروں میں جکڑا ہوا کسی نامعلوم مقام پر موجود ہے۔

🚫

علمِ غیب نہیں رکھتا

دجال کو سوالات پوچھنے پڑے — یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ خدا نہیں، محدود مخلوق ہے۔

نبی ﷺ کی خود تصدیق

آپ ﷺ نے خود منبر پر یہ واقعہ سنا کر اس کی سچائی پر مہر لگائی۔

عصر حاضر — اس حدیث کو کیسے سمجھا جائے

یہ حدیث اپنی نوعیت میں غیر معمولی اور حیرت انگیز ہے، اسی لیے آج کے دور میں بعض لوگ اسے بنیاد بنا کر انٹرنیٹ پر مختلف قیاس آرائیاں کرتے ہیں — مثلاً یہ کہ فلاں سمندر یا فلاں جزیرہ ہی وہ جزیرہ ہے، یا فلاں ملک ہی مشرق سے مراد ہے۔ ایسی تمام باتیں محض قیاس ہیں جن کی کوئی مستند دلیل نہیں۔

خود نبی کریم ﷺ نے بھی صرف اتنا بتایا کہ دجال "مشرق کی طرف" ہے — کسی مخصوص ملک، سمندر یا جزیرے کا نام نہیں لیا۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس حدیث کو ایمان کے ساتھ تسلیم کریں، اس سے عبرت اور نصیحت حاصل کریں، لیکن اسے آج کی جغرافیائی معلومات کے ساتھ زبردستی جوڑنے یا کسی خاص جزیرے، ملک یا سمندر کا نام لے کر دعویٰ کرنے سے مکمل اجتناب کریں — کیونکہ یہ علمی دیانت اور نبی کریم ﷺ کے اپنے محتاط انداز کے خلاف ہے، جیسا کہ ہم پہلی اور دوسری قسط میں بھی واضح کر چکے ہیں۔

  • حدیث کو من و عن تسلیم کریں، اس میں تحریف یا اضافہ نہ کریں۔
  • جغرافیائی مقامات کے بارے میں قیاس آرائی سے گریز کریں۔
  • حدیث کا اصل پیغام سمجھیں: دجال ایک محدود مخلوق ہے، خدا نہیں۔
  • سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات یاد رکھیں، جو دجال کے فتنے سے حفاظت کا ذریعہ ہیں۔
اگلی قسط میں

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور دجال کا انجام — قسط چہارم میں ان شاء اللہ

© 2026 AHSANULWAZAIF TV — تمام حقوق محفوظ ہیں
Online Quran Academy

Dar Ul Huda Academy

Learn Quran Online with Qualified Tutors

نورانی قاعدہ ناظرہ قرآن حفظ القرآن قواعدِ تجوید تفسیر ترجمہ نماز، کلمے اور دعائیں اسلامیات
Flexible Timings — Choose Your Own Schedule (Any Timezone)
Reasonable & Affordable Fees
Male Tutors Available Female Tutors Available All Ages Welcome
3 DAY
FREE
TRIAL

Limited-time offer — start your free trial class today

+92 315 5307532